22 ستمبر, 2017

تحقیق تاریخ شھادت حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ


تحقیق تاریخ شھادت حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ

بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ کی تاریخ وفات یکم محرم الحرام نہیں بلکہ صحیح تاریخ وفات ۲۶ ذوالحجہ ہے۔

حضرت عمرفاروق( رضی الله تعالی عنہ ) کی تاریخ شہادت وفات ، روایات صحیحہ کے مطابق :26 ذوالحج سنہ 23 ھجری کو ہوئی .یا یکم محرم کو؟

اور ان کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی( رضی الله تعالی عنہ ) کی بیعت 29 ذی الحج سنہ 23ھجری کوہوئی !!!

مستند اہل سنت کتب سے حوالہ جات دیکھیں :

٭طبقات ابن سعد جلد ۳، ص ۱۴۷ مطبوعہ کراچی۔

٭تاریخ طبری جلد ۳، ص ۲۳۵ مطبوعہ کراچی۔

٭تاریخ ابن خلدون جلد۱، ص ۳۸۴ مطبوعہ کراچی۔

٭ تاریخ المسعودی جلد ۲، ص ۲۴۰ مطبوعہ کراچی۔

٭ تاریخ ابن کثیر جلد ۷، ص ۲۷۹ مطبوعہ کراچی۔
*تاریخ ابن کثیر//ج ہفتم//ص 18
*کتاب//الفاروق//ص166

حضرت عمر کی تاریخ وفات کے باب میں دو قول مشہور ملتے ہیں۔

۔ 1 ۔ ایک قول یہ ھے کہ حضرت عمر زخمی ہونے کے بعد تین دن زندہ رہے اور پھر چھبیس 26 ذی الحجہ کو ان کا وصال ہوا ، چنانچہ علامہ قلقشندی ، اور حافظ ابن النجار البغدادی نے اسی قول کو اختیار کیا ھے ۔

علامہ قلقشندی لکھتے ہیں ۔

وطعنه أبو لؤلؤة الفارسي غلام المغيرة بن شعبة فبقي ثلاثاً ومات لأربع بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين من الهجرة

نهاية الأرب في معرفة أنساب العرب// جلد1 // صفحہ152// ۔

اسی قول کو حافظ ابن النجار البغدادی نے بھی اختیار کیا ھے،

كانت وفاته رضي الله عنه يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين من الهجرة ۔

الدرة الثمينة في أخبار المدينة // ذکر وفات عمر // ۔

قلقشندی اور ابن النجار کے اس قول کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ھے جس کو حافظ ابن شبہ نے اپنی تاریخ میں اور امام بیہقی نے سنن میں نقل کیا ھے، یہ روایت معدان ابن ابی طلحہ سے مروی ھے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے جمعہ کو خطبہ دیا اور جب ذی الحج کے چار دن باقی تھے، یعنی چھبیس ذی الحج کے دن حضرت عمر کا انتقال ہوا ملاحظہ ہو :

قال خطب لھم یوم الجمعة و مات یوم الأربعاء لأربع بقین من ذی الحجة ۔

السنن الکبری للبیھقی // رقم الحدیث 16578 //۔

تاریخ المدینة لأبن شبة // باب مقتل عمر // ۔

۔ 2 ۔ دوسرا قول جو کہ مشہور ھے، اور اسی قول کو جمھور مؤرخین اور علماء نے اپنی کتب میں بیان کیا ھے کہ ابو لؤلؤ نے چھبیس 26 ذی الحج کو ضرب لگائی تھی، جس سے حضرت عمر تین دن تک زخمی رہے اور پھر ان کا وصال ہوا اور حضرت صھیب رومی نے ان کا نماز جنازہ پڑھایا، چنانچہ مؤرخ ابن اثیر نے اسی قول کو ابن قتیبہ سے نقل کیا ھے، ملاحظہ ہو ،

و قال ابن قتیبة : ضربه أبو لؤلؤة يوم الأثنين لأربع بقين من ذي الحجة، ومكث ثلاثًا، وتوفي، فصلى عَلَيْهِ صهيب ۔

أسد الغابة في معرفة الصحابة// جلد3// صفحہ676 //۔

مشہور سلفی محقق شیخ شعیب الأرنؤوط نے بھی مسند احمد کی تحقیق میں اسی قول کو اختیار کیا ھے، شیخ ارنؤوط رقمطراز ہیں ۔

وكانت خلافته رضي الله عنه عشر سنين وستة أشهر، ضربه أبو لؤلؤة المجوسي لأربع بقين من ذي الحجة، ومكث ثلاثاً وتوفي، فصَلَّى عليه صهيبٌ

المسند للأحمد // تحت رقم الحدیث 82 // مسند عمر //۔

یہ کلام تھا حضرت عمر کی تاریخ وفات کے باب میں، جہاں تک تدفین کی بات ھے تو بعضے علماء نے بیان کیا ھے، کہ حضرت عمر کو محرم کے پہلے دن دفن کیا گیا، تدفین کے اس قول کو ملا علی قاری نے شرح مشکاة میں اور حافظ ابن اثیر الجزری نے جامع الاصول میں اختیار کیا ھے، ملاحظہ ہو 
وطعنه أبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة مصدر الحاج بالمدينة يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد غرة المحرم سنة أربع وعشرين ۔

جامع الاصول //جلد 12// صفحہ127// عمر بن الخطاب //۔

خلاصہ کلام : حضرت عمر کی تاریخ وفات سے متعلق جتنے بھی اقوال ہیں ان اقوال میں اختلاف اس حد تک ھے کہ ابو لؤلؤ نے ضرب کس دن لگائی 

۱۔ علامہ مسعودی لکھتے ہیں: حضرت عمر کو انکی خلافت کے دوران ہی میں مغیرہ کے غلام ابولولوہ نے قتل کر دیا تھا۔ اس وقت سن ہجری کا ۲۳ واں سال تھااور بدھ کا دن تھا جب کہ ماہ ذی الحجہ کے اختتام میں چار روز باقی تھے۔ (مروج الذہب جلد۲، صفحہ ۲۴۰)

۲۔علامہ دنیوی لکھتے ہیں: ماہ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کی چار راتیں باقی تھیں کہ حضرت عمر جمعہ کے روز رحلت فرما گئے۔ (اخبار الطوال صفحہ ۱۳۹)

۳۔ علامہ محب الدین طبری لکھتے ہیں: آپ نے ۲۶ ذی الحجہ کو وصال فرمایا۔ بعض نے کہا کہ اس تاریخ کو زخم آیا تھا اور وفات آخری ذی الحجہ میں ہوئی۔ (ریاض النضرہ جلد ۲ صفحہ ۳۳۵)

۴۔ مشہور مورخ طبری لکھتے ہیں: آپ نے چہار شنبہ کی شب کو ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو وفات پائی۔ عثمان اخنسی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اس خبر میں سہو ہوا ہے کیونکہ حضرت عمر نے ۲۶ ذی الحجہ کو وفات پائی۔ ابو معشر کے نزدیک ۲۶ اور ہشام بن محمد کے نزدیک ۲۷ ذی الحجہ ہے۔ (تاریخ طبری جلد ۳ صفحہ ۲۱۷۔۲۱۸)

۵۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں: واقدی کا بیان ہے کہ حضرت عمر پر بدھ کے روز حملہ ہوا جب کہ ۲۳ ہجری کے ذی الحجہ کی چار راتیں باقی تھیں۔ (البدایہ و النہایہ جلد ۷ صفحہ ۱۸۶)

۶۔ علامہ ابو الفداء: توفی (عمر) یوم السبت سلخ ذی الحجہ روز شنبہ کو حضرت عمر نے وفات پائی۔ (تاریخ ابوالفداء صفحہ ۱۲۲)

۷۔ تاریخ کامل کے مصنف نے بھی یہی لکھا ہے کہ ذی الحجہ کی چار راتیں باقی تھیں کہ آپ فوت ہو گئے اور یکم محرم کو دفن ہوئے۔ (الکامل جلد ۳ صفحہ ۵۲)

۸۔ ابن خلدون لکھتے ہیں: زخمی ہونے کے بعد برابر ذکر اللہ کرتے رہے یہاں تک کہ شب چہار شنبہ ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو اپنی خلافت کے ۱۰ برس ۶ مہینے بعد جان بحق تسلیم ہوئے۔ (تاریخ ابن خلدون جلد ۱ صفحہ ۳۰۷)

۹۔ امام اہلسنت جلال الدین سیوطی: ابو عبیدہ بن جراح کا بیان ہے کہ حضرت عمر بدھ کے دن ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ ھجری کو شہید ہوئےاور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ ۱۳۹)

۱۰۔ ابن اثیر لکھتے ہیں: حضرت عمر کی وفات ۲۶ ذی الحجہ کو ہوئی اور انتیس ذی الحجہ دو شنبہ کے دن حضرت عثمان کی بیعت کی گئی۔ (اسد الغابہ جلد ۲، صفحہ ۶۶۷)

آپ سب نے ملاحظہ کیا کہ قدیم علماء اہلسنت میں کس قدر اختلاف ہے۔ اور کتنی تواریخ ہیں یوم وفات پر۔ اب ہم جدید اہلسنت علماء کے اقوال نقل کرتے ہیں۔

۱۱۔ دور جدید کے مشہور سلفی متعصب مورخ دکتر محمد محمد الصلابی لکھتے ہیں: امام ذہبی لکھتے ہیں کہ ۲۶ یا ۲۷ ذی الحجہ بروز بدھ ۲۳ ھجری میں حضرت عمر نے جام شہادت نوش کیا۔ (سیدنا عمر بن خطاب صفحہ ۸۲۴،۸۲۵)

۱۲۔ مشہور دیوبندی عالم مفتی زین العابدین میرٹھی لکھتے ہیں: حضرت عمر کی وفات زخمی ہونے کے تیسرے دن ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو بدھ کی رات میں واقع ہوئی۔ (تاریخ ملت جلد ۱ صفحہ ۱۸۷)

۱۳۔ بر صغیر کے مشہور سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں: حضرت عمر کی شہادت ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ ہجری ۶۴۴ عیسوی۔ (الفاروق صفحہ ۱۷۷)

۱۴۔ امام اہلسنت اور بر صغیر میں مناظرے کا باب کھولنے والے شاہ عبدالعزیز دہلوی لکھتے ہیں: روز قتل حضرت عمر کا اٹھائیسویں ذی الحجہ کی بلا اختلاف اور دفن ان کا عزہ محرم۔ (تحفہ اثناء عشریہ باب ۹ صفحہ ۵۱۱)

آپ نے غور کیا کہ شاہ صاحب ۲۸ ذی الحجہ کو وفات عمر رضی اللہ عنہ کو بلا اختلاف قرار دے رہے ہیں

۱۵۔ اسی طرح مصر کے مشہور مورخ محمد رضا مصری نے بھی ۲۴ ذی الحجہ ہی یوم وفات لکھی ہے۔ (سیرت عمر صفحہ ۳۲۹)قارئین ہم نے قدیم اور جدید جید اور مستند علماء اہلسنت کے اقوال نقل کر دئیے ہیں جن سے ایک بات ثابت ہے کہ یوم وفات حضرت عمر ہر دور میں اختلافی رہی ہے۔

جمھور کے نزدیک چھبیس ذی الحج ھے، بعض کے نزدیک چھبیس سے پہلے ضرب لگائی ، اور بعض کے نزدیک ستائیس ذی الحج کو ضرب لگائی ۔

لیکن ابو لؤلؤ کی ضرب اور حضرت عمر کی تدفین، ان دونوں باتوں سے قطع نظر ، کم از کم اس بات پر تو تمام مؤرخین و علماء کا اجماع ھے کہ حضرت عمر کا وصال ذی الحج کے مہینہ میں ہی ہوا ھے ، اس میں کوئی دو رائے نہی ہیں ۔ 

۔ امام اہلسنت جلال الدین سیوطی: ابو عبیدہ بن جراح کا بیان ہے کہ حضرت عمر بدھ کے دن ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ ھجری کو شہید ہوئےاور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ )۱۳۹
۔ امام اہلسنت اور بر صغیر میں مناظرے کا باب کھولنے والے شاہ عبدالعزیز دہلوی لکھتے ہیں: روز قتل حضرت عمر کا اٹھائیسویں ذی الحجہ کی بلا اختلاف اور دفن ان کا یکم محرم۔ (تحفہ اثناء عشریہ باب ۹ صفحہ ۵۱۱)

و اللہ اعلم بالصواب

فقط

محمد یعقوب نقشبندی

امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

حضرت سیدنا عمر وبن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''جس دن حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کیا گیا اس دن میں وہیں موجود تھا ۔ حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازِ فجر کے لئے صفیں درست کرو ارہے تھے۔ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بالکل قریب کھڑا تھا، ہمارے درمیان صرف حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما حائل تھے۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوں کے درمیان سے گزرتے اور فرماتے :اپنی صفیں درست کرلو۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھاکہ صفیں بالکل سیدھی ہوچکی ہیں، نمازیوں کے درمیان بالکل خلا نہیں رہااورسب کے کندھے ملے ہوئے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے ا ور تکبیرتحریمہ کہی۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادتِ کریمہ تھی کہ صبح کی نماز میں اکثر سورہ یوسف اور سورہ نحل میں سے قراء َت فرماتے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلی رکعت میں کچھ زیادہ تلاوت فرماتے تاکہ بعدمیں آنے وا لے بھی جماعت میں شامل ہو سکیں، ابھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازشروع ہی کی تھی کہ ایک مجوسی غلام جو پہلی صف میں چھپ کر کھڑا تھااس نے موقع پاتے ہی ایک دودھاری تيز خنجرسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کردیا۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز سنائی دی کہ مجھے کسی کُتےّ نے قتل کردیا یا کاٹ لیا ہے وہ مجوسی غلام حملہ کرنے کے بعد پیچھے پلٹا اور بھاگتے ہوئے تیرہ نماز یوں پر حملہ کیا جن میں سے سات شہید ہوگئے ،ایک نمازی نے آگے بڑھ کر اس پر کپڑا ڈالا اور اسے پکڑ لیا، جب اس بدبخت غلام نے دیکھا کہ اب میں پکڑا جاچکاہوں ،تو اپنے ہی خنجرسے خودکشی کر لی، جب حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ ہوا تو صفوں میں دور دور کھڑے اکثر نمازی اس حملہ سے بے خبر تھے جب انہوں نے حضر ت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراء َت نہ سنی توسبحان اللہ ، سبحان اللہ کہنا شروع کردیا۔ حضرت سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز فجر پڑھائی ، اکثر لوگو ں کونماز کے بعد واقعہ کا علم ہوا۔ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدید زخمی ہوچکے تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہما سے فرمایا:''اے ابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہما!معلوم کرو کہ مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟ ''آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ باہر گئے ،کچھ دیر بعد واپس آکربتایا: ''مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام(ابولؤلؤہ فیروز) نے آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ پر حملہ کیا ہے ۔''

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''وہی غلام جو لوہار تھا ؟'' حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا:''جی ہاں ۔ ' ' حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ''اللہ عزوجل اسے غارت کرے !میری اس سے کوئی دشمنی نہیں تھی ،بلکہ میں نے تو اسے نیکی کی دعوت دی تھی ، میں تو اس کے ساتھ بھلائی کا خواہاں تھا ۔ اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ میں کسی مسلمان کے ہاتھوں زخمی نہ ہوا۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گھرلے جایا گیا۔ حضرت سیدناعمر وبن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' ہم لوگ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی طر ف چل دیئے ۔ لوگو ں پر مصیبتوں کاپہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔گویا اس سے پہلے کبھی ایسی پریشانی اور مصیبت سے دو چار نہ ہوئے تھے۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تسلی دینے لگے:حضور! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یشان نہ ہوں،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخم جلد ہی ٹھیک ہوجائیں گے، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکھجور کی نبیزپلائی گئی لیکن وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیٹ سے زخموں کے ذریعے باہر آگئی۔ پھر دودھ پلایا گیا تو وہ بھی زخموں کے راستے پیٹ سے باہر نکل آیا ، لوگ سمجھ گئے کہ اب ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت سے زیادہ دیر تک فیضیاب نہ ہو سکیں گے۔
پھر لوگو ں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرنا شروع کردی، ایک نوجوان آکرکہنے لگا: ''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! آپ کو مبارک ہو کہ عنقریب اللہ عزوجل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے رِحلت فرمانے والے دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ملا دے گا ۔اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! آپ کو خلافت کا منصب عطا کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عدل وانصاف سے کام لیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک اچھے خلیفہ اور لوگوں کے خیر خواہ و محسن ہیں۔'' حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: ''میں تو اس بات کو پسند کرتا تھا کہ مجھے بقدرِ کفایت رزق ملے، نہ کوئی میرا مقروض ہو، نہ ہی میں کسی کا مقروض ہوؤں۔'' پھر وہ نوجوان واپس جانے لگا تو اس کا تہبند ٹخنوں سے نیچے تھا اور زمین پرلگ رہا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگو ں سے فرمایا:'' اس نوجوان کو میرے پاس بلاؤ۔'' جب وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی ہی شفقت سے فرمایا:'' اے بھتیجے !اپنا کپڑا ٹخنوں سے اونچا کر لے، بیشک اس میں تیرے کپڑوں کی پاکیزگی اور تیرے رب عزوجل کی بارگاہ میں تیرا یہ عمل تقوی اور پر ہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔( سبحان اللہ عزوجل! قربان جائیے ان پاکیزہ ہستیوں کے جذبہ تبلیغ پرکہ آخری لمحات میں بھی نیکی کی دعوت دینا ترک نہ کی اورا س حالت میں بھی خلافِ شرع کام برداشت نہ ہوسکا۔ اللہ عزوجل ان کے صدقے ہمیں بھی جذبہ تبلیغ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الا مین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہما سے فرمایا:''حساب لگا کر بتا ؤ، ہم پر کتناقرض ہے ؟'' انہوں نے حساب لگا کر بتایا:'' تقریباً چھیاسی ہزار(86,000) درہم ۔''

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اگر یہ قرض میرے مال سے ادا ہوجائے تو ادا کردینااوراگر میرا مال کافی نہ ہو توبنی عدی بن کعب کے مال سے ادا کرنا اگر پھر بھی ناکافی ہو توقریش سے سوال کرنا،ان کے علاوہ اور کسی سے سوال نہ کرنا، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا: '' تم اُم المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بارگاہ میں چلے جاؤ اور ان سے عرض کر و کہ عمر بن خطاب اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ اسے اس کے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے اور حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرب میں جگہ عطا فرمائی جائے ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رور ہی تھیں، آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے کہا :'' حضر ت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کو سلام عرض کرر ہے ہیں اور اس بات کی اجازت چاہتے ہیں کہ انہیں ان کے ساتھیوں کے قرب میں دفن کیا جائے۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:'' یہ جگہ تومیں نے اپنے لئے رکھی تھی لیکن اب میں یہ جگہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایثار کر تی ہوں، انہیں جاکر یہ خوشخبری سنا دو۔''چنانچہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اجازت لے کر واپس تشریف لائے۔
جب حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتایا گیا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما آگئے ہیں توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''مجھے بٹھا دو۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوسہارا دے کر بٹھا دیا گیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اے میرے بیٹے! کیا خبر لائے ہو؟ ''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:'' حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت عطا فرمادی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش ہو جائیں ،جس چیز کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پسند کیا کرتے تھے وہ آپ کو عطا کردی گئی ہے ۔'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' مجھے اس چیز سے زیادہ اور کسی چیز کی فکر نہیں تھی ، الحمد للہ عزوجل مجھے میری پسندیدہ چیز عطا کردی گئی ہے۔''

پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' جب میری روح پر واز کرجائے تو مجھے اٹھا کرسرکارِ ابد ِقرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے روضہ اقدس پر لے جانا ، پھر بارگاہِ نبوت میں سلام عرض کرنا اور حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کرنا:''عمر بن خطاب اپنے دوستو ں کے ساتھ آرام کی اجازت چاہتا ہے ، اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کردینا اور اگر اجازت نہ ملے تو مجھے عام مسلمانوں کے قبر ستان میں دفنادینا ۔

جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رو ح خالقِ حقیقی عزوجل سے جا ملی تو ہم لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد نبو ی شریف علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں لے گئے،اور حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حجرہ مبارکہ سے باہر کھڑے ہو کر اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سلام عرض کیا ،اور حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجرہ مبارکہ میں دفن کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت عطا فرمادی ، چنانچہ حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحضورنبی پاک، صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جلووں میں حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

؎ وہ عمر جس کے ا عداء پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھو ں سلام

امیر المؤمنین خلیفہ راشد حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ


امیر المؤمنین خلیفہ راشد حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ امت کے عظیم انسان، عالی مقام اور بلند شان کے مالک تھے ۔اللہ عزوجل نے آپ کے ذریعے اپنے حبیب صادق و مصدوق کی دعوت حقہ کو غلبہ عطا فرمایا۔ آپ نے حق و باطل کے درمیان فرق کیا۔آپ کے طفیل دعوت اسلام کو سربلندی حاصل ہوئی، کلمۃ اللہ مضبوط ہو گیا۔ آپ کی عسکری قوت و شوکت کی بدولت دنیا میں اسلام کی حکومت راسخ ہو گئی۔ توحید کے لیئے مسلمانوں کی پست آواز بلند ہو گئی اور مسلمان مزید ثابت قدم اور مضبوط ہو گئے۔ آپ کے قبول اسلام کے بعد پہلی بار مسلمان اعلانیہ شعائر اسلام پر عمل پیرا ہونے لگے ۔
آپ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے درمیان باطل پرستوں سے بر سر پیکار رہنے کے لیئے آگے آگے تھے۔ آپ کی رائے انجانے میں حکم الٰہی کے موافق ہوتی تھی۔آپ حق کی طرف مائل اور حق کے لیئے بر سر پیکار رہتے تھے۔ دوسروں کا بوجھ اٹھانے والے تھے اور اللہ عزوجل کے حکم کی تعمیل میں کسی نفع کو خاطر میں نہ لانے والے تھے۔آپ دین کا علی الاعلان اظہار فرماتے تھے اور نیکی کے کاموں کو مخفی رکھتے تھے ۔
امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب یوں ہے :۔
عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی قرشی عدوی۔ نویں پشت میں کعب بن لوی پر جا کر آپ کا نسب تاجدار مدینہ حضرت محمد ﷺ کے سلسلہ نسب سے جا ملتا ہے۔
آپ کی کنیت ابو حفص ہے ۔ یہ کنیت آپ کو بارگاہ نبوی سے عطا کی گئی (مستدرک حاکم کتاب معرفۃ الصحابہ)۔
آپ کے کئی القابات ہیں جن میں سے بعض آپ کو بارگاہ الٰہی اور بعض بارگاہ رسالت سے عنایت ہوئے اور کئی ایسے ہیں جو آپ کی مخصوص صفات کی عکاسی کرتے ہیں۔ان میں سے چند ایک القابات درج ذیل ہیں :۔
فاروق، امیر المؤمنین، متمم الاربعین، اعدل الاصحاب، امام العادلین، غیظ المنافقین، سید المحدثین، مراد رسول، مفتاح الاسلام، شہید المحراب اور شیخ الاسلام۔
آپ قبیلہ عدی بن کعب سے تعلق رکھتے تھے جو قریش کا عدنانی قبیلہ کہلاتا ہے۔اس قبیلے کی شرافت و بزرگی نے اسے ہاشم، امیّہ، تیم اور مخزوم جیسے ممتاز قبائل میں شامل کر دیا تھا۔آپ کے قبیلے والے علم و حکمت اور دور اندیشی میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو سفارت کاری اور عدالت کے ضروری عہدے دیئے گئے۔
آپ کے قبول اسلام کی خود رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی ۔چنانچہ ابو یعلی نے بطریق ابی عامر العقدی عن خارجہ عن نافع بحوالہ ابن عمر روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔
"اللہ !اسلام کو دو آدمیوں میں سے جو آپ کو زیادہ پسند ہے ، کے ذریعے غلبہ عطا فرما، عمر بن خطاب یا ابوجہل بن ہشام۔"
ترمذی کتاب المناقب، اسد اللغابہ
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے :۔
"اللہ! دین کو عمر سے مضبوط فرما، اللہ! دین کو عمر سے مضبوط فرما، اللہ! دین کو عمر سے مضبوط فرما۔"
مجمع الزوائد، مسند احمد، کنز العمال بحوالہ الاصابہ فی تمیز صحابہ
اللہ عزوجل نے اپنے حبیب ﷺ کی اس دعا کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں شرف قبولیت عطا فرمایا ۔
چنانچہ خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے قبول اسلام کا واقعہ سناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔
"میں لوگوں میں حضور اکرم ﷺ سے عداوت مول لینے میں پیش پیش تھا۔ ایک مرتبہ میں دار ارقم میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے میری قمیص کو کھینچا اور فرمایا: اے ابن خطاب !اسلام لے آ۔ اے اللہ اس کو بخش دے۔ یہ سن کر میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا
اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد انک رسول اللہ
میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
چنانچہ میرا کلمہ پڑھنا تھا کہ حاضرین نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ اس کی آواز مکہ کی گلیوں میں سنی گئی۔"
حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء جلداول
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم مریں یا جئیں کیا ہم ہر حال میں حق پر نہیں ہیں ؟
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے میری جان کے مالک کی تم مرو یا جیو ہر حال میں حق پر ہو۔
میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ پھر چھپانا کس بات کا قسم ہے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کرنے والی ذات کی آپ ضرور نکلیں گے۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے ہم کو دو گروہوں میں نکالا۔ایک میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے میں میں تھا۔قریش نے مجھے اور حمزہ رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کے ساتھ دیکھا تو انہیں ایسی چوٹ پہنچی جو اس سے پہلے نہ پہنچی تھی ۔ اس دن رسول اکرم ﷺ نے مجھے فاروق کا لقب دیا۔ اور اللہ عزوجل نے حق اور باطل کے مابین فرق واضح فرما دیا۔
دلائل النبوہ لابی نعیم ، کنز العمال
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حق گوئی میں ممتاز تھے اور قطع رحمی اور فراق سے دور تھے۔ اور احکام خداوندی کی تبلیغ کرنے میں بھی پیش پیش تھے ۔ چنانچہ صحابہ کرام آپس میں کہا کرتے تھے یہ کوئی فرشتہ ہے جو عمر کی زبان سے بولتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حق گوئی کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ :۔اللہ عزوجل نے حق کو عمر کی زبان اور اس کے دل پر جاری کر دیا ہے۔
سنن الترمذی۔
آپ کے فضائل میں بے شمار احادیث مروی ہیں
آپ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی بارگاہ نبوی ﷺ سے جنت کی بشارت دے دی گئی تھی ۔
آپ کی رائے کو تائید الٰہی حاصل تھی۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ تین مواقع پر اللہ عزوجل نے میری رائے کی موافقت فرمائی مقام ابراہیم پر، حجاب میں اور بدر کے قیدیوں میں ۔
حلیۃ الاولیاء
آپ عیش و عشرت اور لذت و آرام سے کوسوں دور رہ کر باقی رہنے والی زندگی کے متلاشی تھے مشقتوں کے عادی اور شہوات و خواہشات سے نالاں تھے ۔ روایت میں آتا ہے کہ اپنے دور خلافت میں ایک دفعہ آپ خطبہ دینے ممبر پر کھڑے ہوئے اس وقت آپ نے جو چادر پہن رکھی تھی اس پر بارہ جگہوں پر پیوند لگے ہوئے تھے۔
خشیت الٰہی اس قدر کہ قرآن پڑھتے پڑھتے کسی آیت سے گزرتے تو ان کا گلہ رندھ جاتا اور اس قدر روتے کہ بے حال ہو کر گر جاتے پھر گھر میں پڑے رہتے اور لوگ بیمار سمجھ کر عیادت کو آنے لگ جاتے ۔
کم و بیش دس سال کی مدت خلافت میں آپ نے دین اسلام کی خوب خوب اشاعت فرمائی ۔ اس قلیل مدت میں اس قدر خدمات سرانجام دیں جن کو سرانجام دینے کو ایک عمر ناکافی ہے۔ کم و بیش چھبیس لاکھ مربع میل پر عادلانہ حکومت کی اور دنیا کی بڑی بڑی سپر پاورز کو اسلام پرچم کے سامنے سرنگوں کرنے پر مجبور کر دیا !
آپ کی شہادت عالم اسلام کے ان عظیم ترین سانحات میں سے ہے جن کی تلافی نہ ہوئی اور نہ کبھی ہو سکتی ہے۔جس دن آپ مسلمان ہوئے دین الٰہی کی شوکت و عزت بڑھتی چلی گئی اور جس دن دنیا سے رخصت ہوئے مسلمانوں کا اقبال بھی رخصت ہو گیا ۔
آپ کی شہادت کا مختصر احوال کچھ یوں ہے کہ آپ کا معمول تھا کہ صبح سویرے نماز فجر کے لیئے مسجد میں تشریف لے جاتے مسجد جاتے جاتے سونے والے لوگوں کو نماز کے لیئے جگاتے اور مسجد میں صفیں درست کرواتے اور اس کے بعد نماز فجر شروع کرتے ۔ آپ نماز فجر میں بڑی بڑی سورتیں پڑھتے تھے اس روز بھی آپ نے معمول کے مطابق ایسا ہی کیا ۔ چنانچہ نماز شروع ہی کی تھی صرف تکبیر تحریمہ ہی کہہ پائے تھے کہ ایک مجوسی کافر ابو لولو فیروز جو کہ حضرت مغیری رضی اللہ عنہ کا غلام تھا اور زہر آلود خنجر لیئے محراب میں چھپا بیٹھا تھا ، آپ کے شکم مبارک میں تین زخم لگائے جس سے آپ اسی وقت بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ نماز حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر مکمل کرائی۔
جب آپ کو ہوش آیا تو آُ نے سب سے پہلے اپنی نماز ادا کی اور پھر سوال کیا کہ میرا قاتل کون ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ابولولو مجوسی کافر ! یہ سن کر آپ نے تکبیر ایسی بلند آواز سے کہی کہ باہر تک آواز اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ایک کافر کے ہاتھوں مجھے شہادت عطا فرمائی ۔
آپ 27 ذی الحجہ کو بروز چہار شنبہ زخمی ہوئے اور پانچویں دن یکم محرم الحرام کو بروز یک شنبہ وصال فرما گئے ۔
آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور خاص روضہ رسول ﷺ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آپ کی قبر انور بنائی گئی ۔

اصل سکندر اعظم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

اصل سکندر اعظم
حضرت_عمر_فاروق
سکندر اعظم کون تھا مقدونیہ کا الیگزینڈر یا تاریخ اسلام کے حضرت عمر فاروقؓ ، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دینا دنیا بھر کے مؤرخین پر فرض ہے، آج ’’ایس ایم ایس‘‘ کا دور ہے، موبائل کا میسجنگ سسٹم چند سیکنڈ میں خیالات کو دنیا کے دوسرے کونے میں پہنچا دیتا ہے، جدید دور کی اس سہولت سے اب قارئین اور ناظرین بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔
گزشتہ روز کسی صاحب نے پیغام بھجوایا ’’کاش آپ نے آج حضرت عمر فاروق ؓ پر کالم لکھا ہوتا‘‘ یہ پیغام پڑھتے ہی یاد آیا آج تو حضرت عمر فاروقؓ کا یومِ شہادت تھا اور میں اس وقت سے سوچ رہا ہوں مقدونیہ کا الیگزینڈر سکندر اعظم تھا یا حضرت عمر فاروق  ؓ۔ ہم نے بچپن میں پڑھا تھا مقدونیہ کا الیگزینڈر بیس سال کی عمر میں بادشاہ بنا، 23 سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا، اس نے سب سے پہلے پورا یونان فتح کیا، اس کے بعد وہ ترکی میں داخل ہوا، پھر ایران کے دارا کو شکست دی، پھر وہ شام پہنچا، پھر اس نے یروشلم اور بابل کا رخ کیا، پھر وہ مصر پہنچا، پھر وہ ہندوستان آیا، ہندوستان میں اس نے پورس سے جنگ لڑی، اپنے عزیز از جان گھوڑے کی یاد میں پھالیہ شہر آباد کیا۔
مکران سے ہوتا ہوا واپسی کا سفر شروع کیا، راستے میں ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہوا اور 323 قبل مسیح میں 33 سال کی عمر میں بخت نصر کے محل میں انتقال کر گیا، دنیا کو آج تک بتایا گیا وہ انسانی تاریخ کا عظیم جرنیل، فاتح اور بادشاہ تھا اور تاریخ نے اس کے کارناموں کی وجہ سے اسے الیگزینڈر دی گریٹ کا نام دیا اور ہم نے اسے سکندر اعظم یعنی بادشاہوں کا بادشاہ بنا دیا لیکن آج اکیسویں صدی کے پندرہویں سال کے سولہویں دن میں پوری دنیا کے مؤرخین کے سامنے یہ سوال رکھتا ہوں کیا حضرت عمر فاروقؓ کے ہوتے ہوئے الیگزینڈر کو سکندر اعظم کہلانے کا حق حاصل ہے؟ میں دنیا بھر کے مؤرخین کو سکندر اعظم اور حضرت عمر فاروقؓ کی فتوحات اور کارناموں کے موازنے کی دعوت دیتا ہوں۔
آپ بھی سوچئے الیگزینڈر بادشاہ کا بیٹا تھا، اسے دنیا کے بہترین لوگوں نے گھڑ سواری سکھائی، اسے ارسطو جیسے استادوں کی صحبت ملی تھی اور جب وہ بیس سال کا ہو گیا تو اسے تخت اور تاج پیش کر دیا گیا جب کہ اس کے مقابلے میں حضرت عمر فاروقؓ کی سات پشتوں میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا، آپؓ بھیڑ بکریاں اور اونٹ چراتے چراتے بڑے ہوئے تھے اور آپؓ نے تلوار بازی اور تیر اندازی بھی کسی اکیڈمی سے نہیں سیکھی تھی، سکندراعظم نے آرگنائزڈ آرمی کے ساتھ دس برسوں میں 17 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا تھا جب کہ حضرت عمر فاروق  ؓ نے دس برسوں میں آرگنائزڈ آرمی کے بغیر 22 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا اور اس میں روم اور ایران کی دو سپر پاورز بھی شامل تھیں۔
آج کے سیٹلائیٹ، میزائل اور آبدوزوں کے دور میں بھی دنیا کے کسی حکمران کے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں جو حضرت عمر فاروقؓ نے نہ صرف گھوڑوں کی پیٹھ پر فتح کرائی تھی بلکہ اس کا انتظام و انصرام بھی چلایا تھا، الیگزینڈر نے فتوحات کے دوران اپنے بے شمار جرنیل قتل کرائے، بے شمار جرنیلوں اور جوانوں نے اس کا ساتھ چھوڑا، اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں اور ہندوستان میں اس کی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کر دیا لیکن حضرت عمر فاروقؓ کے کسی ساتھی کو ان کے حکم سے سرتابی کی جرأت نہ ہوئی، وہ ایسے کمانڈر تھے کہ آپ نے عین میدان جنگ میں عالم اسلام کے سب سے بڑے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ  کو معزول کر دیا اور کسی کو یہ حکم ٹالنے کی جرأت نہ ہوئی، آپؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ  کو کوفے کی گورنری سے ہٹا دیا، آپؓ نے حضرت حارث بن کعبؓ سے گورنری واپس لے لی، آپؓ نے حضرت عمرو بن العاصؓ  کا مال ضبط کر لیا اور آپؓ نے حمص کے گورنر کو واپس بلا کر اونٹ چرانے پر لگا دیا لیکن کسی کو حکم عدولی کی جرأت نہ ہوئی۔
الیگزینڈر نے 17 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا لیکن دنیا کو کوئی نظام، کوئی سسٹم نہ دے سکا جب کہ حضرت عمر فاروقؓ نے دنیا کو ایسے سسٹم دیے جو آج تک پوری دنیا میں رائج ہیں، آپؓ نے نماز فجر میں الصلوٰۃ خیر من النوم کا اضافہ کرایا، آپؓ کے عہد میں نماز تراویح کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا، آپؓ نے شراب نوشی کی سزا مقرر کی، سن ہجری کا اجراء کیا، جیل کا تصور دیا، مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کرایا، پولیس کا محکمہ بنایا، ایک مکمل عدالتی نظام کی بنیاد رکھی، آب پاشی کا نظام قائم کرایا، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا، آپؓ نے دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بیواؤں اور بے آسراؤں کے وظائف مقرر کیے۔
آپؓ نے دنیا میں پہلی بار حکمرانوں، سرکاری عہدیداروں اور والیوں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا تصور دیا، آپؓ نے بے انصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا اور آپؓ نے دنیا میں پہلی بار حکمران کلاس کی اکاؤنٹیبلٹی شروع کی، آپؓ راتوں کو تجارتی قافلوں کی چوکیداری کرتے تھے، آپؓ فرمایا کرتے تھے جو حکمران عدل کرتے ہیں وہ راتوں کو بے خوف سوتے ہیں، آپؓ کا فرمان تھا ’’ قوم کا سردار قوم کا سچا خادم ہوتا ہے،، آپؓ کی مہر پر لکھا تھا ’’عمر! نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے،، آپؓ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں رکھے گئے۔
آپؓ زمین پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سو جاتے تھے، آپؓ سفر کے دوران جہاں نیند آ جاتی تھی آپؓ  کسی درخت پر چادر تان کر سایہ کرتے تھے اور سو جاتے تھے اور رات کو ننگی زمین پر دراز ہو جاتے تھے، آپؓ کے کرتے پر چودہ پیوند تھے اور ان پیوندوں میں ایک سرخ چمڑے کا پیوند بھی تھا، آپؓ موٹا کھردرا کپڑا پہنتے تھے، آپؓ  کو نرم اور باریک کپڑے سے نفرت تھی، آپؓ  کسی کو جب سرکاری عہدے پر فائز کرتے تھے تو اس کے اثاثوں کا تخمینہ لگوا کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے اور اگر سرکاری عہدے کے دوران اس کے اثاثوں میں اضافہ ہو جاتا تو آپؓ اس کی اکاؤنٹیبلٹی کرتے تھے۔
آپؓ جب کسی کو گورنر بناتے تو اسے نصیحت فرماتے تھے، کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑے نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا، آپؓ فرماتے تھے ظالم کو معاف کر دینا مظلوموں پر ظلم ہے اور آپؓ  کا یہ فقرہ آج انسانی حقوق کے چارٹر کی حیثیت رکھتا ہے ’’مائیں بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں تم نے انھیں کب سے غلام بنا لیا ؟ ‘‘ فرمایا میں اکثر سوچتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں ’’عمرؓ بدل کیسے گیا‘‘ آپؓ اسلامی دنیا کے پہلے خلیفہ تھے جنھیں ’’امیر المومنین‘‘ کا خطاب دیا گیا، دنیا کے تمام مذاہب کی کوئی نہ کوئی خصوصیت ہے اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت عدل ہے اور حضرت عمر فاروقؓ وہ شخصیت ہیں جو اس خصوصیت پر پورا اترتے ہیں۔
آپؓ کے عدل کی وجہ سے عدل دنیا میں عدل فاروقی ؓ ہو گیا، آپ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ آپؓ کی وصیت کے مطابق آپ کا واحد مکان بیچ کر آپ کا قرض ادا کر دیا گیا اور آپؓ دنیا کے واحد حکمران تھے جو فرمایا کرتے تھے میرے دور میں اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کی سزا عمر (حضرت عمر فاروقؓ) کو بھگتنا ہو گی، آپؓ کے عدل کی یہ حالت تھی آپؓ  کا انتقال ہوا تو آپ کی سلطنت کے دور دراز علاقے کا ایک چرواہا بھاگتا ہوا آیا اور چیخ کر بولا ’’ لوگو! حضرت عمرؓ کا انتقال ہو گیا‘‘ لوگوں نے حیرت سے پوچھا ’’تم مدینہ سے ہزاروں میل دور جنگل میں ہو تمہیں اس سانحے کی اطلاع کس نے دی‘‘ چرواہا بولا ’’ جب تک حضرت عمر فاروقؓ زندہ تھے میری بھیڑیں جنگل میں بے خوف پھرتی تھیں اور کوئی درندہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا لیکن آج پہلی بار ایک بھیڑیا میری بھیڑ کا بچہ اٹھا کر لے گیا، میں نے بھیڑیئے کی جرأت سے جان لیا آج دنیا میں حضرت عمر فاروقؓ موجود نہیں ہیں‘‘۔
میں دنیا بھر کے مؤرخین کو دعوت دیتا ہوں وہ الیگزینڈر کو حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے رکھ کر دیکھیں انھیں الیگزینڈر حضرت عمر فاروق ؓ کے حضور پہاڑ کے سامنے کنکر دکھائی دے گا کیونکہ الیگزینڈر کی بنائی سلطنت اس کی وفات کے پانچ سال بعد ختم ہو گئی جب کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے دور میں جس جس خطے میں اسلام کا جھنڈا بھجوایا وہاں سے آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں آتی ہیں، وہاں آج بھی لوگ حضرت عمر فاروقؓ کے اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، دنیا میں الیگزینڈر کا نام صرف کتابوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے جب کہ حضرت عمر فاروقؓ کے بنائے نظام دنیا کے 245 ممالک میں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں، آج بھی جب کسی ڈاک خانے سے کوئی خط نکلتا ہے ۔
پولیس کا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، کوئی فوجی جوان چھ ماہ بعد چھٹی پر جاتا ہے یا پھر حکومت کسی بچے، معذور، بیوہ یا بے آسرا شخص کو وظیفہ دیتی ہے تو وہ معاشرہ، وہ سوسائٹی بے اختیار حضرت عمر فاروقؓ کو گریٹ تسلیم کرتی ہے، وہ انھیں تاریخ کا سب سے بڑا سکندر مان لیتی ہے ماسوائے ان مسلمانوں کے جو آج احساس کمتری کے شدید احساس میں کلمہ تک پڑھنے سے پہلے دائیں بائیں دیکھتے ہیں۔
لاہور کے مسلمانوں نے ایک بار انگریز سرکار کو دھمکی دی تھی ’’ اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جائے گا‘‘ اس پر جواہر لال نہرو نے مسکرا کر کہا تھا ’’افسوس آج چنگیز خان کی دھمکی دینے والے مسلمان یہ بھول گئے ان کی تاریخ میں ایک (حضرت) عمر فاروقؓ بھی تھا‘‘ ہم آج بھی یہ بھولے ہوئے ہیں کہ ہم میں ایک (حضرت) عمر فاروقؓ بھی تھے جن کے بارے میں رسولؐ اللہ نے فرمایا تھا ’’ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عمرؓ بن خطاب ہوتے‘‘۔

انسان روح و مادہ سے مرکب ہے


انسان روح و مادہ سے مرکب ہے ۔ مادہ یعنی جسم عالم عناصر سے مرکب ہے اور عالم بالا سے ۔ روح کی پیاس اور تقاضے مادہ و جسم کے تقاضوں سے مختلف ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جسم کو بھوک پیاس ' رنج و الم ' شادی بیاہ کی ضرورت رہتی ہے جبکہ روح ان خواہشات سے بالاتر ہے ۔
تمام مذاہب قدیم و جدید میں جسمانیت سے زیادہ روحانیت پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ روح جب تک جسم میں موجود ہے جسمانی علائق سے کلیتا آزادی ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ پہاڑ پر بسیرا کرنے والے جوگی و سنیاسی اور دنیاوی تعلقات کو منقطع کرنے والے درویش و راھب کسی معقول انسان کے نزدیک ہرگز پسند نہیں کئے جاتے ۔ دین برحق کی عظیم نشانیوں میں سے ہم ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ آدم سے خاتم علیھم السلام تک جملہ انبیاء علیہم السلام انسانوں کی بستی میں رہ کر جسمانی و روحانی تعلقات استوار کرتے رہے ۔ سیدنا یسوع المسیح اور یحیی (یوحنا) کے سوا کل جماعت انبیاء نے نکاح کی رسم کو ادا کیا ۔ اسی روح مع الجسد کے ساتھ جماعت انبیاء دعوت و منادی کا فریضہ ادا کرتی رہی ۔ یہاں تک کے مقدس پولوس کی منادی کا دور شروع ہوجاتا ہے ۔
میرے سامنے اس وقت عہد جدید میں سے 1کرنتھیوں کا ب7 ہے میں مسلسل اس باب کی آیات مقدسہ میں غوروفکر کررہا ہوں ۔
جو باتیں تم نے لکھی ہیں انکی بابت یہ ہے مرد کے لئے اچھا ہے کہ عورت کو نہ چھوئے لیکن حرام کاری کے اندیشہ سے ہر مرد اپنی بیوی اور ہر عورت اپنا شوہر رکھے ۔ مزید فرماتے ہیں : لیکن میں یہ اجازت کے طور پر کہتا ہوں حکم کے طور پر نہیں اور میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جیسا میں ہوں ویسے ہی سب آدمی ہوں لیکن ہر ایک کو خدا کی طرف سے خاص خاص توفیق ملی ہے ۔ کسی کو کسی طرح کی کسی کو کسی طرح کی ۔ پس میں بے بیاہ ہوں اور بیواوں کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ انکے لئے ایسا ہی رہنا اچھا ہے جیسا میں ہوں لیکن اگر ضبط نہ کرسکیں تو بیاہ کرلیں ۔ کیونکہ بیاہ کرنا مست ہونے سے بہتر ہے ۔
اقول : مقدس پولوس اپنے متبعین کو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ تجرد (غیر شادی شدہ یا شادی کے باوجود عورت سے پرہیز ) میں کمال روحانیت ہے کیونکہ شادی شدہ انسان شادی کے بعد دنیاوی الجھنوں میں گرفتار رہتا ہے جو آسمانی بادشاہت کی منادی کے سراسر خلاف ہے۔ اگر چہ شادی کرنا بھی درست ہے لیکن تجرد پسندی افضل اور مستحسن عمل ہے جس سے انسان روحانیت کی سیڑھیوں پر تیزی سے ترقی کرتا ہے ۔
دوستو ! ھندومت میں تجرد پسندی کو فروغ دینے کے لئے برہمچاریہ نظریہ پیش کیاجاتا ہے ۔ ایک برہمچاری شخص کے لئے لازم ہے کہ جسم کی جائز خواہشات سے بھی خود دور رکھے خاص طور پر جنسی تعلقات سے پرہیز کیاجائے ۔ برہمچاریہ نظریہ کے مطابق شادی شدہ بھی اپنی بیوی سے باز رہے تاکہ بیوی کی قربت اسے خدا کے تعلق سے دور نہ کردے ۔ مہاتما گاندھی اپنی روحانی تجربات میں اسی نظریہ کے پرچارک کرتے نظر آتے ہیں ۔ طویل عرصہ تک اپنی بیوی سے دوری کو فضیلت سمجھتے تھے ۔ مہاتما بدھ کے نظریات میں بھی عورت سے جسمانی تعلقات کے بارے میں وہی فلسفہ ہے جسے مقدس پولوس رسول بیان کرتے ہیں ۔ ہماری گفتگو کا مدعی یہی ہے کہ عورت سے تجرد پسندی کو مقدس پولوس اور ان سے قبل مشرک اقوام میں قربت خداوندی کا ذریعہ سمجھاجاتا رہا ۔ جبکہ جماعت انبیاء ایسی کسی بھی دعوت اور منادی سے یکسر نابلد ہے جسکا واضح مطلب ہے کہ تجرد پسندی محمود و پسندیدہ عمل نہیں ۔ لیکن پولوس رسول اپنے متبعین و مخاطبین کو دعوت دے رہے ہیں کہ چونکہ میں بن بیاہا ہوں لہذا آپ بھی روحانی ترقی کے لئے تجرد پسندی کو اختیار کرو ۔مزید ارشاد فرماتے ہیں : کنواریوں کے حق میں میرے پاس خداوند کا کوئی حکم نہیں دیانت دار ہونے کے لئے جیسا خداوند کی طرف سے مجھ پر رحم ہوا اسکے موافق اپنی رائے دیتا ہوں پس موجودہ مصیبت کے خیال سے میری رائے میں آدمی کے لئے یہی بہتر ہے کہ جیسا ہے ویسا ہی رہے ۔ اگر تیرے پاس بیوی ہے تو اس سے جدا ہونے کی کوشش نہ کر اور اگر تیرے بیوی نہیں تو بیوی کی تلاش نہ کر۔ لیکن تو بیاہ کرے بھی تو گناہ نہیں اور اگر کنواری بیاہی جائے تو گناہ نہیں مگر ایسے لوگ جسمانی تکلیف پائیں گے اور میں تمہیں بچانا چاہتا ہوں ۔ مگر اے بھائیو میں یہ کہتا ہوں کہ وقت تنگ ہے ۔ پس آگے کو چاہیے کہ بیوی والے ایسے ہوں کہ گویا انکی بیویاں نہیں ( 1کرنتھیوں 7۔26تا30)
کتاب مقدس میں پہلی وہ ہستی جسے نبی کہاگیا ابراہیم ہیں اور جلیل القدر شریعت کے حامل نبی مقدس موسی ہیں دونوں ہستیوں سمیت جملہ جماعت انبیاء جس شریعت کی تعلیم دیتے رہے مسیحیت اسے جسمانی تکالیف اور سایہ قرار دیتی ہے جبکہ عہدجدید اور بالخصوص پولوس رسول کے خطوط ہمیں اس جسمانی شریعت کے بجائے روحانی ترقی کی طرف بلارہے ہیں اور اس روحانی ترقی کی غایت و انتہا تک پہنچنے کے لئے پولوس رسول یہ رائے منفردہ پیش فرماتے ہیں کہ بیاہ کروگے تو جسمانی تکلیف اٹھاو گے اور وقت کم ہے لہذا جو شادی شدہ ہیں وہ یوں زندگی بسر کریں گویا وہ رھبانیت اور گوشہ نشین ہیں ۔
ملت مسیحیت سے گزارش ہے جسمانیت و روحانیت کے اس سلسلہ میں فلسفیانہ موشگافیوں سے بچتے ہوئے ہماری رہنمائی کی جائے کہ کیا یہ منادی اور طریقہ سلسلہ انبیاء کے موافق ہے یا مخالف ؟؟؟ کیا کتاب مقدس تورات بالخصوص اور مکمل عہد عتیق بالعموم تجرد پسندی کو فروغ دیتی ہے ؟؟؟ نیز پولوس مقدس کی یہ دعوت تجرد کیا موجودہ دنیا کے لئے مفید ہے ؟؟؟
الداعی الی الحق ابوالحقائق احمد
کراچی پاکستان

19 ستمبر, 2017

کیا کبھی کوئی رسول قتل نہیں ہوا


دور ِ جدید کے بعض تجدد پسند حضرات نے نبی اور رسول کے درمیان منصب اور درجے کے لحاظ سے فرق و امتیاز کی بحث کرتے ہوئے یہ نکتہ آفرینی بھی فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو تو اُن کی قوم بعض اوقات قتل بھی کردیتی رہی ہے مگر کسی قوم کے ہاتھوں کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا۔ یہ لوگ اس امر کو ایک اُصول، ایک عقیدہ اور قانونِ الٰہی قرار دیتے ہیں کہ نبی کے لئے وفات پانے یا قتل ہونے کی دونوں صورتیں تو ممکن ہیں مگر رسول کبھی قتل نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ جناب جاوید احمد غامدی کے امام صاحب مولانا امین احسن اصلاحی سورۂ ق کی آیت14کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
''رسول کا کسی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔'' 1

پھر اپنے امام صاحب کے اس متن کی گول مول شرح جاوید احمد غامدی صاحب نے یوں بیان فرمائی ہے کہ
''رسولوں کے بارے میں اس اہتمام کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کی زمین پرخدا کی کامل حجت بن کر آتے ہیں۔ وہ آفتابِ نیم روز کی طرح قوم کے آسمان پر چمکتے ہیں۔ کوئی دانا و بینا کسی دلیل و برہان کی بنا پر اُن کا انکارنہیںکرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو کسی حال میں ان کی تکذیب کرنے والوں کے حوالے نہیں کرتا۔ نبیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم ان کی تکذیب ہی نہیںکرتی، بارہا اُن کے قتل کے درپے ہوجاتی ہے اور ایسا ہوا بھی ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوجاتی ہے... لیکن قرآن ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے معاملے میں اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے۔''2

پھر مزید ارشاد فرمایا ہے کہ
'' نبی اپنی قوم کے مقابلے میں ناکام ہوسکتا ہے، لیکن رسولوں کے لئے غلبہ لازمی ہے۔'' 3

مگر ان متجددین اور منکرین ِحدیث کی یہ نکتہ طرازی بالکل غلط ہے اور خود قرآن مجید کے نصوص اور واضح احکام کے خلاف ہے۔ قرآنِ مجید کی اکثر آیات اس قدر واضح اور صریح انداز میں (عبارة النص کے طریقے پر) اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ انبیاے کرام کی طرح رسولوں کا قتل ہوجانا بھی ایک امر واقعہ ہے۔
قرآنِ مجید کے نصوص
قرآنِ مجید کے جن نصوص کی بنیاد پر ہم اس 'نئے عقیدے' اور اس 'نرالے اُصولِ دین' کو غلط قرار دیتے ہیں، ان کی تفصیل یہ ہے :
(1) سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ دوسرے رسولوں کی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی وفات پانے یا قتل ہوجانے کی دونوںصورتوں کا امکان موجود ہے۔ گویا آپؐ کو طبعی موت بھی آسکتی ہے اور آپؐ مقتول بھی ہوسکتے ہیں:
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَ‌سُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّ‌سُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ ٱنقَلَبْتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَـٰبِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ‌ ٱللَّهَ شَيْـًٔا...﴿١٤٤﴾...سورۃ آل عمران
''اور محمدؐ تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں۔ پس اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم اُلٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے اور جو کوئی بھی اُلٹے پاؤں واپس چلا جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا۔'' (آلِ عمران:144)

(2) سورۂ بقرہ میں بنی اسرائیل سے فرمایا گیاکہ
أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَ‌سُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُكُمُ ٱسْتَكْبَرْ‌تُمْ فَفَرِ‌يقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِ‌يقًا تَقْتُلُونَ ﴿٨٧﴾...سورۃ البقرۃ
''تو کیا جب کبھی کوئی رسول تمہارے پاس وہ چیز لے کر آیا جو تمہارے نفس کو پسند نہ آئی تو تم نے تکبر کی راہ اختیار کی۔ پھر بعض کو تم نے جھٹلایا اوربعض کو تم قتل کرتے تھے۔''

اس آیت سے واضح طور پرمعلوم ہواکہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں کئی رسول قتل ہوئے تھے۔
(3) سورۂ مائدہ میں ارشاد ہواکہ
لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَـٰقَ بَنِىٓ إِسْرَ‌ٰٓ‌ءِيلَ وَأَرْ‌سَلْنَآ إِلَيْهِمْ رُ‌سُلًا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَ‌سُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُهُمْ فَرِ‌يقًا كَذَّبُوا۟ وَفَرِ‌يقًا يَقْتُلُونَ ﴿٧٠﴾ ...سورۃ المائدہ
''بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کے پاس کئی رسول بھیجے۔ جب کبھی کوئی رسول انکے پاس وہ چیز لایا جو اُن کو پسند نہ آئی تو بعض کو وہ جھٹلاتے اور بعض کو قتل کر ڈالتے تھے۔''

اس آیت سے بھی صریح طور پر معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کئی رسولوں کوقتل کیا تھا۔
(4) سورۂ آلِ عمران میں بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد ہواکہ
ٱلَّذِينَ قَالُوٓا إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَآ أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَ‌سُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْ‌بَانٍ تَأْكُلُهُ ٱلنَّارُ‌ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُ‌سُلٌ مِّن قَبْلِى بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَبِٱلَّذِى قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ﴿١٨٣﴾...سورۃ آل عمران
''یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ پیش کرے جسے آگ کھا جائے۔ آپؐ کہہ دیجئے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول آئے، نشانیاں لے کر اور اس چیز کے ساتھ جسے تم کہہ رہے ہو، پھر تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟ اگر تم سچے ہو۔''

اس مقام پر بنی اسرائیل کے بارے میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ان کادعویٰ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن سے یہ عہد کررکھا تھا کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہ لائیں جو ان کے سامنے نیاز یا قربانی کو آسمانی آگ سے نہ جلا دکھائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کا یہ جواب دیا ہے کہ اے نبیؐ! آپؐ ان سے کہہ دیں کہ اگر یہی بات ہے تو جو رسول اور پیغمبر اُن کے پاس دلائل اور مذکورہ معجزہ بھی لاتے رہے، اُن کی اُنہوں نے تکذیب کیوں کی تھی اور ان میں سے بعض کو قتل کیوں کیاتھا؟
قرآن مجید کے یہ واضح نصوص ہیں جن سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی طرح رسول بھی بعض اوقات اپنی قوم کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔ بالخصوص بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اُنہوں نے بہت سے رسولوں کو نہ صرف جھٹلایاتھا بلکہ اُن کو قتل بھی کرڈالا تھا۔ مذکورہ دلائل و براہین کے بعد یہ دعویٰ کرنے کی کیاگنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ قانون الٰہی یہی رہا ہے کہ کبھی کوئی رسول کسی قوم کے ہاتھوں قتل نہیں ہوا؟
متجددین کافکری تضاد
متجددین حضرات کے ہاں فکری تضاد کی بہت فراوانی ہے۔ یہ لوگ ایک جگہ ایک بات کا اقرار کرتے ہیں تو دوسرے مقام پر اُسی کا انکار کردیتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ اپنی اس تضاد بیانی کو 'علم و تحقیق' کانام دیتے ہیں۔

حدِ رجم کامعاملہ ہو یا اجماعِ اُمت کے کسی فیصلے کا، خبر واحد کی حجیت کی بات ہو یا صحیح احادیث کے واجب العمل ہونے کی۔ جہاد کی بحث ہو یا مرتد کی سزا کی، عورت کی گواہی کا معاملہ ہو یا اُس کی دیت کا... غرض یہ لوگ ہر جگہ فکری تضاد اور ذہنی انتشار کا شکارنظر آتے ہیں۔ اپنے من گھڑت اُصولِ دین کے ذریعے یہ حضرات پورے دین اسلام کا تیاپانچا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ دوسرے کو دھوکا دیتے اور حقیقت میں خود دھوکا کھاتے ہیں!!
اب ہم ان کے فکری تضاد کو ان کے اپنے الفاظ میں واضح کریں گے۔ ان شاء اللہ

(1) آلِ عمران کی آیت 144 کی تفسیر کرتے ہوئے مولانااصلاحی صاحب لکھتے ہیں کہ
''مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں بہت سے رسول گزرے ہیں، اسی طرح محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی اللہ کے رسول ہیں۔ جس طرح کی آزمائشیں اور مصیبتیں دوسرے رسولوں کو پیش آئیں، اسی طرح کی آزمائشیں اورمصیبتیں انہیںبھی پیش آسکتی ہیں۔ جس طرح تمام رسولوں کو موت کے مرحلہ سے گزرنا پڑا، اُنہیں بھی ایک دن وفات پانا ہے۔ ان کے رسول ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ وفات نہیں پائیںگے یا قتل نہیں ہوسکتے یاکسی مصیبت یا ہزیمت کااِبتلا انہیں پیش نہیںآسکتا۔ اگر کسی نے اس غلط فہمی کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا اور اب اُحد کے حادثے کے بعد کسی تذبذب میںمبتلا ہوگیا ہے اور وہ از سرنو جاہلیت کی زندگی کی طرف پلٹ جانا چاہتا ہے تو پلٹ جائے، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا بلکہ اپنی ہی دنیا اور آخرت برباد کرے گا۔'' 4

اس سے معلوم ہوا کہ مولانا صاحب کے بیان کے مطابق یہ غلط فہمی ہے کہ کوئی رسول قتل نہیں ہوسکتا۔ اب ایک اور مقام پر دیکھئے۔
(2) آلِ عمران آیت 183 کی تفسیر کرتے ہوئے مولانااصلاحی صاحب لکھتے ہیں:
''اُن سے کہہ دو کہ مجھ سے پہلے ایسے رسول آچکے ہیں ، جو نہایت واضح نشانیاں لے کرآئے اور وہ معجزہ بھی اُنہوں نے دکھایا جس کا تم نے ذکر کیا تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟ تمہارا یہ فعل تو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ تم اپنی اس بات میں بھی جھوٹے ہو۔ اگر تم کو یہ معجزہ بھی دکھایاجائے گا جب بھی اپنی اسی ضد پر اَڑے رہو گے اور ایمان نہ لانے کاکوئی اور بہانہ تلاش کرلو گے۔ '' 5

مولاناکے اس بیان سے واضح ہے کہ کئی رسولوں کو اُنہوں (بنی اسرائیل) نے قتل کیاتھا۔
(3) پھر اسی کتاب میں مولانا اصلاحی صاحب سورۂ مائدہ کی آیت 70 کی تفسیر کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
''فرمایا کہ ان سے جس کتاب و شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیا تھا اور جس کی تجدید اور یاددہانی کے لئے اللہ نے یکے بعد دیگرے اپنے بہت سے رسول اور نبی بھیجے، اس عہد کو اُنہوں نے توڑ دیا اور جو رسول اس کی تجدید اور یاددہانی کے لئے آئے ہیں، ان کی باتوں کو اپنی خواہشات کے خلاف پاکر یا تو ان کی تکذیب کردی یااُن کوقتل کردیا۔'' 6

اس جگہ بھی مولانا صاحب نے اپنے ابتدائی دعوے کے خلاف رسولوں کے قتل ہونے کو تسلیم کیا ہے۔ اس طرح مولانا اصلاحی صاحب ایک ہی سانس میںرسولوں کے قتل ہونے کا انکار بھی کردیتے ہیں اور اقراربھی کرلیتے ہیں۔ع جناب شیخ کا نقش ِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی!
تو جناب یہ ہے تدبر قرآن اور قرآن پر 'تدبر' کرنے اور اس پر 'تحقیق' کرنے کا وہ انوکھا انداز جس سے بے چارے تمام مفسرین کرام محروم رہے ہیں۔
مولانا اصلاحی صاحب نے اپنی تفسیر اور اپنی دوسری تالیفات میں فکری تضادات کے بہت سے شاہکار 'تحقیق' کے نام سے پیش کئے ہیں جن کو میں نے اپنی کتاب 'حد ِ رجم' میں بے نقاب کردیا ہے۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں کہ
 شادی شدہ زانی کے لئے رجم کی سزا ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات بھی پاچکے ہیں اور اُن کی وفات نہیںبھی ہوئی ہے۔وہ ابلیس فوت ہوچکا ہے جس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اور وہ ابھی تک زندہ بھی ہے۔احادیث دین میں حجت بھی ہیں اور حجت نہیں بھی ہیں۔اجماعِ اُمت حجت بھی ہے اور حجت نہیں بھی ہے۔خبر واحد حجت ہو بھی سکتی ہے اور حجت نہیں بھی ہوسکتی۔ بائبل تحریف شدہ بھی ہے اور اس سے شریعت کے احکام بھی مستنبط کئے جاسکتے ہیں۔اسلامی حدود و تعزیرات وحشیانہ بھی ہیں اور منصفانہ بھی۔سنت سے قرآن کے کسی حکم کی تخصیص یا تحدید و تقیید ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہوسکتی۔قرآنِ مجید میں قراء ات کا اختلاف درست بھی ہے اور غلط بھی۔جارحانہ جہاد جائز بھی ہے اور ناجائز بھی۔
متجددین اور منکرین ِحدیث کی تحریروں اور تقریروں میں کثرت سے فکری تضادات پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ ایک جگہ ایک اُصول کو مانتے ہیں، دوسری جگہ اسی اُصول کا انکار کردیتے ہیں کبھی علماے اُمت کو حجت اوردلیل مانتے ہیں اور کبھی ان کی تحقیر اور استخفاف کرنے لگ جاتے ہیں۔ غرض 'دروغ گو را حافظہ نباشد' والی بات ان پر پوری طرح صادق آتی ہے۔

دراصل دین اسلام ایک اکائی ہے اور ایک مربوط نظامِ فکر و عمل ہے۔ جو شخص اس عمارت میں سے کوئی ایک اینٹ بھی اُس کی جگہ سے اُکھیڑے گا تو اس سے پوری عمارت متاثر ہوگی اور دیکھنے والی نگاہ فوراً اس خرابی پرپڑے گی اور نقص کی نشاندہی کردے گی اور گمراہی نظر آجائے گی۔ اس سے پہلے بھی ہم 'محدث' کے صفحات میںمتجددین اور منکرین حدیث بالخصوص مولانا امین احسن اصلاحی اور ان کے اندھے مقلد جناب جاوید احمد غامدی کے افکار ونظریات کا تنقیدی جائزہ لیتے رہے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ہم اُن کی ایک ایک تاویلِ فاسد اور گمراہی کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔
حوالہ جات

1. تدبر قرآن : 7؍542
2. ماہنامہ 'اشراق' اگست 1988ء صفحہ 68 نیز 'میزان' حصہ اوّل، صفحہ 21 مطبوعہ مئی 1985ئ
3. میزان حصہ اوّل، صفحہ 23، مطبوعہ مئی 1985ئ
4. تدبر قرآن: 2؍ 185،186
5. تدبرقرآن:2؍220،221
6. تدبر قرآن: 2؍ 566

فیشن، پردہ اور شریعت

idara tul,idara tul mustfa,dua e khair,tul mustfa,dua,saqib raza,raza saqib mustafai,upi,dua for all,qari shahid,raza mustfai,wazifa for hajat in urdu,dua wazifa in urdu,raza saqib,saqib raza mustafai 2018,bayan raza mustafai 2018,saqib raza mustafai bayan,bayan maulana tariq jameel,raza,islam for all,dua ka wazifa,urdu adab usa,urdu shayari,dua ki qabooliyat ki nishani,ajmal raza qadri 2017

فیشن، پردہ اور شریعت
اﷲ عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہو اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔
سورۃ النور میں رب کائنات اپنے نور کی مثال کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لئے حجاب کے احکام نازل فرماکر حقیقتاً عورتوں کے لئے نور کا ساماں پیدا کیا ہے، نورانیت کی پرنور چادر تانی ہے بشرطیکہ کہ ہم ناداں نسواں ان احکام کو سمجھتے ہوئے ان احکام میں موجود … سے قلوب کو پرسکون کرلیں۔

*دیکھ کر اے بنت حوا یہ ادائیں یہ شعار*
*آج ہے چشم فلک بھی دم بخود اور سوگوار*

دور حاضر میں پردہ خواتین کے لئے ایک محاذ اور فیشن ایگو، عزت اہم ضرورت بن گیا۔  ہم ناداں نسواں احکام شرعی کو نظر انداز کرتے اپنے لئے نار جہنم کا ساماں پیدا کررہی ہیں۔ اﷲ عزوجل نے ہمارے لئے نور اتار اور ہمارے لئے روشنی نازل فرمائی اور ہم نے نوروروشنی میں منور ہونے کی بجائے اندھیرے و تاریکی کو اپنا لباس بنالیا، جہنم کے راستے پر گامزن ہوگئیں۔ اپنا تقدس، وقار معیار مسلمان عورت ہونا سب بھول کر ایک چیز یاد رکھیں۔
معزز بہنوں ہم صنف نازک سے ہیں کائنات کے رنگوں کو عورت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بیٹی کی صورت میں گھر کی چہکار، بہن کی صورت میں رونق، بیوی کی صورت میں سکون اور ماں کی صورت محبت خالص، لیکن ان سب کو بھول کر ہم نے صرف اپنا ہی نقصان کیا ہے۔
عورت جس کا نام ہی پردہ ہے، حجاب ہے۔ آج وہ اپنا حجاب بھول کر فیشن کی بھول بھلیوں میں اپنی ترقی و بقاء سمجھنے لگی ہے۔ بے پردگی میں اپنا عروج ماننے لگی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس نے بے پردگی کو اپناکر نہ صرف مغربی تہذیبوں کو فروغ دیا بلکہ ایک مسلم عورت کو گرایا ہے حجاب کے تقدس کو پامال کیا، وقار نسواں مجروح کیا۔
اُمّت مصطفیﷺ ہوکر بھی بے پردہ؟ بے حجاب؟
آج اگر ہم سے پوچھا جائے کہ پردہ کیا ہوتا ہے تو بے حد اعتماد و مطمئن انداز میں جواب دیا جاتا ہے۔

*’’پردہ تو آنکھوں کا ہوتا ہے‘‘*
تو اُن سے ایک اور سوال ہے کہ کیا وہ اتنے ہی اعتماد سے یہ جواب دے سکتی ہے۔ *کیا ان کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ میں احترام تھا، ادب تھا، عزت تھی، پاکیزگی تھی۔*
یا ! امھات المومنین رضی اللہ عنہھما کی آنکھوں میں پردہ نہیں تھا*
٭ ایک مسلمان عورت ہوکر کیسے برداشت کرلیاکیا اس کے چہرے کو کوئی نامحرم دیکھے؟
٭ اُمّت مصطفی ﷺ ہوکر کیسے برداشت کرلیا بے پردہ رہنا؟
٭ غیر مسلموں کی تقلید کرنا؟
٭ عریاں ہونا کیسے برداشت کرلیا
*ہوا تجھ پر قلم بھی اشک باراں عورت ہے رنگ کائنات تجھ میں*
*فخر مرداں بن، ناموس خانگان بن، رشک مسلم بن*
عروج، ترقی، بقائ، بے حجابی، بے پردگی میں نہیں ہے حجاب وپرے میں امہات المومنین رضی ﷲ عنہن کی مثال شمع فروزاں کی طرح ہمارے سامنے روشن ہے۔ اچھی بیٹی، اچھی بہن، اچھی ماں، اچھی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ کائنات کی حسین ترین خواتین کے درجے پر فائز ہیں۔ کیا انہیں عروج نہ ملا؟ کیا انہوں نے شرعی احکام کونسا اپنایا تھا۔ کیا انوہں نے بے حجابی کو شعار بنایا تھا؟
بہن انہوں نے ہرحال میں شرعی احکام کی پاسداری کی، تعلیم رسول اﷲﷺ کو تھامے رکھا۔ اطاعت رسولﷺ کو شعار بنایا، حقیقت تو یہ ہے کس انہیں یہ عظیم مرتبہ ملا ہی اس شریعت محمدیﷺ کی تعظیم و احکام کی بجا آوری کرنے سے ہے۔

*دور حاضر اور خواتین*
دور حاضر میں آزادی کے نام پر بے پردگی اور ترقی کے نام پر بے حجابی اور عریانیت کو اپنا شعار بنالیا۔ ہر طرف بے حیائی و فحاشی سے مناظر عام ہیں، مغرب کی طرف سے آنے والی یہ رنگ و ہوا کو قوس قزح کے خوبصورت و ناپاک رنگ سمجھ کر اپنے آپ کو اس میں ڈھال لیا۔
تیرے حجاب و حیاء پر لکھے گئے کل تک دیوان نازاں
کیوں اتار لیا تونے اپنے آپ کو پستی و مغرباں میں

*شریعت اور فیشن،*
معزز بہنوں ہماری شریعت نے ہمیں فیشن سے نہیں منع کیا۔ ہماری شریعت ہم پر بے جا پابندیاں عائد نہیں کی۔ اگر ہم سمجھیں کہ شریعت محمدیﷺ ہمارے لئے کیسا انمول خزانہ ہے اور اس میں ہمارے لئے کتنے بیش و بہا موتی ہیں، یہ انمول و نایاب خزانہ ہمارے لئے جس کو اپنانے میں ہماری اپنی شخصیت کا نکھار ہے۔
ہماری شریعت نے ہمیں ہار سنگھار سجنے سنورنے سے منع نہیں کیا۔ صرف اتنا حکم ہے کہ  فیشن کیا جائے۔ مگر حد میں رہ کر کیا جائے۔ اپنی روایات اپنی شریعت، کتاب اﷲ کے احکامات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا جائے۔ تاریخ و حال گواہ ہے جب بھی کوئی حد سے بڑھا ہے وہ تباہ و برباد ہوا ہے، فنا ہوا ہے، سینکڑوں قومیں تباہ ہوئیں اور عبرت کا نشان بن گئیں حد سے بڑھنے کی پاداش میں۔ مثال کے طور پر سوچیں پانی بھی حد سے زیادہ پکایا جائے تو وہ بھی ختم ہوجاتا ہے، عورت تو پھر صنف نازک ہے اور یہ ہماری شریعت کا ہم پر احسان ہے، کہ ہم پر حدیں مقرر کرکے ہمیں برباد ہونے سے بچالیا۔
٭ فیشن کے نام پر پستی میں جا پڑنے پر حد قائم کردی۔
٭ فیشن کے نام پر عریانیت سے بچنے کے لئے ہم پر حد قائم کردی۔
٭ فیشن کے نام پر ہماری تابناکی کا سورج مغرب میں غروب ہونے سے بچالیا۔
کیا یہ ہم پر ہماری شریعت کا احسان نہیں ہے؟
فیشن کیا جائے ضرور کیا جائے۔ قرآن و حدیث نے ہمیں کسی جگہ جبر کا حکم نہیں دیا۔ ہار سنگھار سے منع نہیں کیا بلکہ شوہر کے لئے سجنے سنورنے پر اجر عظیم رکھا۔
قرآن و حدیث میں سنگھار سے سجنے سنورنے سے بالاجماع منع نہیں ہے۔۔
*کنواری لڑکیاں سنگھار کیا کریں، تاکہ ان کی منگنیاں (رشتے) آئیں پھر ظاہر ہے شوہر والیوں کے لئے تو اور بدرجہ اولیٰ سنگھار وزیب وزینت کا حکم ہے۔سجنے سنورنے سے منع نہیں، ممانعت ہے تو فیشن کے نام پر بے پردگی سے ہے۔ اس لئے ناجائز فیشن سے ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو۔ گھر میں جھگڑا ہو، عبارت میں رکاوٹ اور شیطان ساتھی ہو ایسے فیشن سے منع کیا گیاہے، حد مقرر کی گئی ہے، سلیولیس، کیپری جیسے ملبوسات جن سے ستر عورت ظاہر ہو۔ ایسے فیشن سے ممانعت کی گئی*۔

الله سے دعا ہے وہ مسلم شہزادیوں کی عقل سے پردہ ہٹاکر چہرے اور جسم. پر ڈالنے والا بنادے آمین ثم آمین یا رب العالمین
#از #در_صــدفـــ_اِیــمـان 
#AlEemaanIslamicAcademy
/DurReSadafEemaanOfficial

فیس بک پر شہوت کے درندوں کا دماغی زنا


فیس بک پر شہوت کے درندوں کا دماغی زنا

By Idara Tul Khair

ﺷﮩﻮﺕ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﺭﻧﺪﮮ ﻓﯿﺴﺒﮏ ﭘﺮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﺩﻣﺎﻏﯽ‎ ‎ﺯﻧﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

ﺑﮩﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﻮﺑﮧ‎ ‎ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ !
=================
ﺍﺏ ﺍﯾﮏ ﺯﻧﺎ ﺑﺎﻟﺠﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ۔
ﺟﻮ ﺯﻧﺎﺑﺎﻟﺠﺒﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺷﺎﺋﺴﺘﮧ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺎ ﮐﺮ ﮐﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﻧﺒﺎﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﺘﮯ ﺧﯿﺮﺍﮞ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ،،،،،،
ﺟﻮ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ 70 ﻓﯿﺼﺪ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺟﺎﺋﺰ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﻭﭘﻦ ﻣﺎﺋﻨﮉ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺷﻦ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺁئی ﮉﯼ ﺩﯾﮑﻬﯽ ﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻤﺎﺋﻞ ﺍﯾﻤﻮﺷﻦ ﺑﻬﯿﺠﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﻬﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﻣﻼ . ﺑﺎﺕ ﭼﺎﻟﻮ ،،،،
ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﺑﮩﻦ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﯿﮟ ؟
ﺟﯽ ﺍﻟﺤﻤﺪﻟﻠّٰﮧ
ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ sister ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻟﮑﻬﺘﯽ ﮨﻮ ﺑﮩﻦ
ﺁﭘﮑﯽ ﮨﻮﺳﭧ ﭘﮍﮬﯽ ﺣﺠﺎﺏ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﭘﻮﺳﭧ ﺗﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺮﮮ ﻣُﻠﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﯽ ﺳﻮﭺ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭘﮑﯽ‎
ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻓﯿﻦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ‎
ﺟﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮩﺖ ﺷﮑﺮﯾﮧ۔ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺩﯾﻦ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﮯ
ﺟﯽ بالکل ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﺗﻮ ﮨﺮ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻣﯽ ﺍﺑﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺟﯽ ﺍﻟﺤﻤﺪﻟﻠّٰﮧ ۔۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭘﮑﻮ ﺧﻮﺵ ﺭﮐﻬﮯ‎
ﺟﻮﺍﺏ ﺁﯾﺎ ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻬﺎﺋﯽ ﺑﺲ ﺁﭖ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ،،،،
۔
ﺍﻭﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺁ ﮔﺌﮯ so ﺍﻟﻠﮧ ﺣﺎﻓﻆ
Ok Ok
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺠﺪ کے ﻟﺌﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
==========
Next Talk
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺭ
ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﺑﮩﻦ
ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﮭﺎﺋﯽ
ﺧﯿﺮﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷُﮑﺮ ﮨﮯ
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﭘﻮﭼﮭﻮﮞ ﺑﺮﺍ ﻧﮧ مناﺋﯿﮟ
ﺗﻮ
ﺟﯽ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ
ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ؟؟
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻣﮏ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ
ﻭﺍﮦ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ
ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ؟؟
ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﭽﺮ ﮨﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ
ﺍﺭﮮ ﻭﺍﮦ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮨﻮﺋﮯ
ﺟﯽ ﺑﺲ ﺍُﺳﺘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮨﮯ !! ﮬﺎﮬﺎﮬﺎ ﮬﺎﮬﺎﮬﺎﮬﺎ !!!
ﮐﺎﻓﯽ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ
ﺟﯽ ﺑﺲ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ Sorry
No No it's Ok
ﺧﺪﺍ حاﻓﻆ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ
ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ
Ok ﺍﻟﻠﮧ حاﻓﻆ
==========
ﺍلسلاﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﺑﮭﺎﺋﯽ
ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ السلاﻡ ﺑﮩﻦ
ﮐﺪﮬﺮ ﮨﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﮯ
ﺁﺝ Sister ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮩﺖ ﺩﮐﻬﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ
ﺧﯿﺮﯾﺖ ؟
ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻬﺎﺋﯽ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﺲ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﮩﻦ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ؟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﯽ ﮐﻮﺋﯽ Help ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ؟
ﻣﺠﻬﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ Hurt کیا
ﺟﯽ ﺑﺲ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ
ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ
ﺑﺲ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ
ﮐﯿﺎ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ
ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﻝ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ؟
Ok ﻧﻤﺒﺮ ﺩﯾﮟ



==========

ﺍلسلام ﻋﻠﯿﮑﻢ
ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ ﺍلسلاﻡ
ﺁﭖ ﺣﺠﺎﺏ ﮨﻮ
ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﺠﺎﺏ ﮨﻮﮞ
ﺁپ کی ﺁﻭﺍﺯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﺍﭼﮭﺎ !!! ﺷﮑﺮﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ ؟
ﺑﺲ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭘﮑﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ
hihihi
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟
ﺁﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮔﯽ
=============
ﺑﺎﺕ ﭼﻠﺘﯽ ﺭﮨﯽ ،،، ﮨﻤﺪﺭﺩﯾﺎﮞ ﺑﮍﻫﺘﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﻣﭩﺘﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﻤﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﻭ ﺩﺍﺋﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮔﯿﺎ
ﮨﻮﺍ ﯾﻮﮞ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺪﻑ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﯿﺮ ﭼﻼ ﺩﯾﺎ
ﺍﺏ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻓﯿﺴﺒﮑﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﭘﮑﺎ ﭨﻬﮑﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﭩﺘﺎ ﮔﯿﺎ ﺑﮩﻦ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﭧ ﮔﯿﺎ
ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﭘﮭﺮ ﻣﺤﺒﻮﺑﮧ ﭘﮭﺮ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﭘﮭﺮ ﺯِﻧﺎ ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺎﻥ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ حقیقی
ﭘﮭﺮ
ﮨﻠﮑﯽ ﻧﻔﺮﺕ
ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﯽ ﻧﻔﺮﺕ
ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﻔﺮﺕ
ﭘﮭﺮ
The End
==========
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ، ﻣﻘﺪﺱ ﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﮑﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ- ﺁﺋﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍپنے ﺍﺭﺍﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ میں ﺩﮮ ﺩﯾﮟ !!!
ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﻮ ﺑُﺮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﺘﺤﮑﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻔﻆ ﻭ ﺍﻣﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ .

ﺁﻣﯿﻦ ﯾﺎﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ

15 ستمبر, 2017

غامدی کہتا ہے کہ "میزان" قرآن کا نام ہے


میزان طبع پنجم 2009 صفحہ 33

جبکہ سلف و خلف میں سے کسی نے بھی قرآن کا نام میزان نقل نہیں کیا۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے الاتقان میں قرآن کے 55 نام درج کیئے لیکن ان میں قرآن کا نام میزان نہیں لکھا !
غامدی صاحب کے دعویٰ کے بلکل برعکس قرآن کے مطابق ،،میزان،، کیا ہے۔ 
اس کی وضاحت سورہ الرحمٰن کی مندرجہ ذیل آیات سے ہوتی ہے :۔
وَالسَّمَآءَ رَفَـعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْـزَانَ (7)
اَلَّا تَطْغَوْا فِى الْمِيْـزَانِ (8)
وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْـزَانَ (9)
اور آسمان کو اسی نے بلند کر دیا اور ترازو قائم کی۔
تاکہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو۔
اور انصاف سے تولو اور تول نہ گھٹاؤ۔
قرآن کی ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تخلیق کائنات کے دوران سماوات کی تخلیق کے وقت اللہ عزوجل نے ،میزان، قائم کی جس کا معنی قرآن ہی کی رو سے ،،ترازو،، ہے 
اور ہو بہو یہی معنی علامہ زمخشری رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے جنہیں غامدی صاحب امام اللغۃ مانتے ہیں (میزان جلد 1 ص 128 طبع 1985) 
مندرجہ بالا تمہید کی روشنی میں میرا غامدیت سے سوال ہے کہ قرآن کی روشنی میں سلف و خلف میں سے کسی ایک امام مفسر یا محدث کے قول کا حوالہ دیں جنہوں نے ،،میزان،، کو قرآن کا نام قرار دیا ہو ؟

14 ستمبر, 2017

کیا کبھی کوئی رسول قتل نہیں کئے گے؟


غامدی صاحب نے نبی و رسول کے درمیان منصب اور درجے کے لحاظ سے امتیاز کرتے ہوئے یہ گوہرافشانی کی ہے کہ  اللہ عزوجل کے نبیوں کو ان کی قوم بعض اوقات قتل کر دیتی تھی لیکن کبھی کسی قوم کے ہاتھوں کوئی رسول قتل نہیں ہوا۔ اس امر کو وہ ایک اصول ایک عقیدہ اور قانون الٰہی مانتے ہیں کہ نبی کے لیئے وفات پانے یا قتل ہونے کی دونوں صورتیں ممکن ہیں  مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہو سکتا۔
چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ :۔
رسولوں کے بارے میں اس اہتمامکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زمین پر خدا کی کامل حجت بن کر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نبیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم بارہا ان کی تکذیب ہی نہیں کرتی بلکہ ان کے قتل کے درپے بھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔لیکن قرآن ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے متعلق اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے۔
(میزان حصہ اول ص21 مطبوعہ 1985)
مزید کہتے ہیں کہ
نبی اپنی قوم کے مقابلے میں ناکام ہو سکتا ہے لیکن رسولوں کے لیئے غلبہ لازمی ہے
(میزان جلد اول ص 23 مطبوعہ 1985)
غامدی صاحب کا یہ مؤقف جسے وہ قانون الٰہی بھی قرار دینے سے نہیں چوکتے ، قرآن کے بلکل متضاد ہے ۔ قرآن کے مطابق نہ صرف نبی بلکہ رسول بھی قتل کیئے جاتے رہے ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد الٰہی ہے کہ :۔
اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَـرْتُـمْ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُـمْ وَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ (البقرہ:87)
جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ حکم لایا جسے تمہارے دل نہیں چاہتے تھے تو تم اکڑ بیٹھے، پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کیا۔
اس آیت سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں کئی رسول قتل ہوئے۔
مزید ایک جگہ ارشاد ہے :۔
لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهِـمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ (مائدہ:70)
ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے تھے، جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ حکم لایا جو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو (رسولوں کی) ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کر ڈالا۔
اس آیت سے بھی صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ عزوجل کے بھیجے ہوئے کئی رسولوں کو قتل کیا۔
مزید سورہ آل عمران میں بنی اسرائیل کے لیئے ارشاد ہوا :۔
اَلَّـذِيْنَ قَالُوٓا اِنَّ اللّـٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّـٰى يَاْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُـهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِىْ بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّـذِىْ قُلْتُـمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُـمْ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (آل عمران:183)
وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس قربانی لائے کہ اسے آگ کھا جائے، کہہ دو مجھ سے پہلے کتنے رسول نشانیاں لے کر تمہارے پاس آئے اور یہ نشانی بھی (لے کر آئے) جو تم کہتے ہو، پھر انہیں تم نے کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو۔
اس مقام پر واضح طور پر ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ عقیدہ تھا  کہ اللہ عزوجل نے ان سے عہد کر رکھا ہے کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہ لائیں جو ان کے سامنے قربانی کو آسمانی آگ سے جلا کر نہ دکھائے۔
اللہ عزوجل نے اس دعوے کا یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیں اگر یہی بات ہے تو جو رسول ان کے پاس مذکورہ معجزہ لاتے رہے  انہیں تم نے کیوں قتل کیا۔
یہ قرآن مجید کی واضح ترین نصوص ہیں جن کے مطابق رسول بھی قتل ہوتے رہے۔ بالخصوص بنی اسرائیل نے کئی رسولوں کو جھٹلایا اور کئی رسولوں کو قتل کیا۔ مذکورہ دلائل و براہین کے بعد یہ دعویٰ کرنے کی کیا گنجائش بچتی  ہے کہ قانون الٰہی ہی یہی رہا ہے کہ کوئی رسول قتل نہیں ہوا؟

31 اگست, 2017

قربانی کی کھالیں اور اُن کا درست استعمال


قربانی کی کھالیں اور اُن کا درست استعمال۔
فرزندان توحید اللہ کے حکم اور سنت ابراہیمی کی بجا آوری کیلئے جانوروں کی خریداری میں مصروف ہیں، بہت سے لوگوں نے کئی ہفتوں سے جانور خریدرکھے ہیں، یقیناایسے لوگ اپنی نیت کے مطابق ثواب کے حق دارہیں۔
زمانے کے بدلتی ضروریات،، بدلتے تقاضوں کے سبب قربانی کی کھال بھی ایک باقاعدہ صنعت اختیار کر چکی ہے۔
سال 2014 کی رپورٹ ،، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 70لاکھ سے زائد کھالیں جمع کی گئیں جو فلاحی تنظیموں اور بیوپاریوں کے ذریعے ٹینرز انڈسٹری کو فروخت کی گئیں۔ ان کھالوں میں گئے بیل کی 25لاکھ کھالیں، بکرے کی 40 لاکھ کھالیں جبکہ بھیڑوں کی 10لاکھ کھالیں شامل ہیں۔ ملک بھر میں 25ہزار سے زائد اونٹوں کی بھی قربانی کی گئی۔
سال 2016میں 12.2ملین جانور ذبح ہوئے۔
اس طرح ہر سال جذبہ ایمانی بڑھ رہا ھے اور یہ کاروبار بھی ۔
ایک اندازے کے مطابق تقریباً 15 ارب روپے سے زائد کی قربانی کی کھالوں کا کاروبار ہوتا ہے یقیناً ،رفاہی ادارے ، دینی مدارس ، دیگر مذہبی جماعتیں ، اور مجاہدین کے نام پر قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ قربانی کی کھالیں جس دینی مدرسے ، جماعت،  یا ادارے کو دیں یہ تسلی ضرور کریں اس کا غلط استعمال تو نہیں ھو گا،
اس سے پہلے ہمارے ساتھ یہ حادثہ ہو چکا کہ ہمارے دیئے ہوئے چندے اور عطیات سے ہم پر ہی مشرک کا لیبل لگایا گیا ،اور اب یہی اربوں روپے کی کھالیں کہیں دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں نہیں جائیں، 
  اگر آپ سوچتے ہیں کہ دو چار سو سے ہو گا !       آپ کے دو چار سو کی بات نہیں۔ اگر کوئی دہشت گرد تنظیم قربانی کی کھالوں کا 15 حصہ بھی لے جائے تو ایک ارب روپے سے زائد رقم دہشت گردی  کے لئے استعمال ہو سکتی ہے ۔ اور یہ خطرے سے خالی نہیں ،یہ یاد رکھئے اگر آپ نے ایک کھال بھی کسی دہشت گرد تنظیم، یا سہولت کار کو دے دی، تو آپ بھی اس دہشت گردی کے جرم میں برابر کےشریک ہیں ۔
تحریر!  محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

27 اگست, 2017

آگہی ، اپنی پہچان


خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی​ دلچسپ اور سبق آموز
ميں قرآن ميں کہاں ہوں ؟
-------
ایک درویش صفت مومن ايک دن کہیں بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی

لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
(ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔

وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟
انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
(ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
(ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔

اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
(ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔

اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9)
(ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔

اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
(ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔
اور کچھ کا ذکر یوں تھا،
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔

وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!
پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
(ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟

پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
(ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔

کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
(ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔

يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔
اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
(ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔

اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے !!
تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟ 
سوچئے گا !!
الله هميں عمل كى توفیق دے..

بلاگ میں تلاش کریں